پاکستانی عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی پاکستان سٹیزن پورٹل پر رواں ماہ رجسٹرڈ شدہ افراد کی تعداد 26 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
کورونا وائرس کی وبا پھیلنے اور لوگوں کے گھروں تک محدود ہو جانے کے بعد اس پورٹل کے صارفین میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس پورٹل پر 15 اپریل تک 20 لاکھ سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں جن میں سے لگ بھگ ساڑھے اٹھارہ لاکھ (یا 92.13 فیصد) شکایات کو حل بھی کیا جا چکا ہے اور بقیہ حل ہونے کے مراحل میں ہیں۔
سب سے زیادہ 889 ,875 (یعنی 43.63 فیصد) شکایت پنجاب کے شہریوں نے درج کروائی ہیں، وفاقی حکومت کے اداروں کے خلاف 257 ,699 شکایات، خیبرپختونخوا کے شہریوں نے 553 ,243 شکایات، سندھ میں 434 ,159 شکایات، بلوچستان میں 556 ,18، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 990 ,7 شکایات اور گلگت بلتستان کے شہریوں نے 436 ,2 شکایات درج کروائی ہیں۔
سٹیزن پورٹل پر رجسٹر شدہ صارفین میں سے 93.2 فیصد مرد حضرات ہیں، 6.6 فیصد خواتین جبکہ 0.2 فیصد دیگر جنس کے حامل افراد ہیں۔
لیکن چند شکایت کنندگان ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنے محکموں کے خلاف شکایات درج کروائیں۔ اگرچہ شکایت کنندہ کا نام اور دیگر تفصیلات صیغہ راز میں رکھنی ہوتی ہیں مگر پھر بھی ایسے افراد کی شناخت ان کے محکموں تک پہنچ گئیں اور اب ایسے افراد کو محکمانہ سطح پر مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سٹیزن پورٹل کیا ہے؟
اکتوبر 2018 میں وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستان سٹیزن پورٹل بنایا گیا تھا۔
اس کے تحت لوگ ملک بھر سے کسی بھی سرکاری محکمے، بلدیاتی اداروں اور دیگر کے خلاف شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شہریوں کی شکایات اور شناخت کے اندراج کے بارے میں بتاتے ہوئے ’پرائم منسٹرز پرفارمنس ڈیلیوری یونٹ‘ (پی ایم ڈی یو) کی ترجمان ماہ رخ بیگ نے بتایا کہ زیادہ تر شکایات میونسپل سروسز (بلدیاتی اداروں) کے متعلق ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ شکایات درج کرتے ہوئے شہریوں کو اپنا شناختی کارڈ نمبر دینا ہوتا ہے مگر شکایت کنندہ کا شناختی کارڈ نمبر و دیگر تفصیلات شہریوں کی حفاظت کی غرض سے صیغہ راز میں رکھی جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ شکایات کا اندراج ایک خاص ڈیٹا بیس میں کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد بد عنوانی سے منسلک شکایات کی صورت میں دستاویزات یا ثبوت جمع کرنے کا مرحلہ شروع ہو تا ہے۔
ایک حالیہ واقعے کی مثال دیتے ہوئے ماہ رخ نے بتایا کہ ’بلوچستان سے ایک بچی کے اغوا کی خبر بھی درج کی گئی تھی جو مقامی پولیس کی کوششوں کے بعد بازیاب کر لی گئی۔‘
45 شکایات درج کرنے والے شیخوپورہ کے رہائشی
مجموعی طور پر سب سے زیادہ 401669 شکایات میونسپل اداروں کے خلاف درج کروائی گئی ہیں
شیخوپورہ کے رہائشی آیت اللہ سرا اب تک سٹیزن پورٹل میں 45 شکایات درج کر چکے ہیں۔ چاہے وہ پولیس سے متعلق مسائل ہوں یا پھر انسانی حقوق کی پامالی، آیت اللہ نے ہر بارے میں شکایات کی ہیں۔
اس بارے میں بتاتے ہوئے آیت اللہ نے کہا کہ ’ان شکایات میں سے 50 فیصد میں ہمارے علاقے میں ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور صفائی کا ذکر تھا، ایسی تمام شکایات پر جواب یہی ملا کہ اس وقت فنڈز نہیں ہیں اس لیے اس کام کے لیے گرانٹ نہیں دے سکتے، اگلے سال کا بجٹ آنے کا انتظار کریں۔‘
تاہم انھوں نے بتایا کہ پولیس کی کارکردگی سے متعقلہ شکایت پر انھیں فوراً مقامی ڈی ایس پی کا بلاوا آ گیا۔
آیت اللہ نے ان تمام شکایات کو درج کرتے ہوئے اپنا نام نہیں چھپایا جس کے نتیجے میں انھوں نے کہا کہ ان پر پولیس کی جانب سے پہلے دباؤ ڈالا گیا۔
’مجھ سے اچھی خاصی تفتیش کی گئی۔ میری شکایت ہمارے علاقے میں ہونے والی ایک ڈکیتی سے متعلق تھی۔ اور مجھ سے یہی پوچھا جا رہا تھا کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ہوئی ہے کیا میں ان کو جانتا ہوں۔ میں نے کہا میں نے ہمدردی کی بنیاد پر شکایت درج کی ہے۔‘
آیت اللہ نے بتایا کہ ایک طویل جانچ پڑتال کے بعد ان کی شکایت کا نوٹس لیا گیا اور جن لوگوں کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی ان کی مدد ہو گئی۔
لیکن پولیس سے نمٹنے کے بعد آیت اللہ کی دکان پر تحصیل میونسپل افسر (ٹی ایم او) کے دفتر سے ایک کلرک کو بھیجا گیا۔
’مجھے کہا گیا کہ تھوڑا شکایتوں پر ہلکا ہاتھ رکھیں۔ کچھ شکایت ہمیں براہِ راست بھی بتا دیا کریں۔‘
پی ایم ڈی یو کی ترجمان ماہ رُخ کے مطابق پولیس اور دیگر محکموں کی طرف سے شکایت کنندگان سے تفتیش کرنے کی وجہ ’آپسی دشمنی کے نتیجے میں درج کروائی جانے والی شکایات کو روکنا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اکثر لوگ بنا کسی ثبوت اور بنیاد کے کسی بھی شخص یا محکمے پر بد عنوانی کا الزام لگادیتے ہیں۔جس پر وقت لگانے کے بعد پتا چلتا ہے کہ شکایت بے بنیاد وجوہات پر لگائی گئی۔
’دریا میں رہتے ہوئے مگرمچھ سے بیر اچھا نہیں‘
لیکن اسلام آباد کے ایک رہائشی نے جب اپنے محکمے میں ہونے والی بدعنوانی کی تحریری شکایت کی تو اُن کے محکمے کے سینیئر افسران تک اُن کا نام اور شناختی کارڈ نمبر سمیت شکایت کا مکمل تحریری ریکارڈ پہنچ گیا۔
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے شہری نے بتایا کہ ’مجھے سینیئر افسر نے دفتر میں بلایا اور کہا کہ آپ کا نام سامنے آیا ہے۔ میں نہیں مان رہا تھا۔ لیکن پھر انھوں نے پورٹل کے ترجمان کو فون کیا اور اُن کو بتایا کہ یہ محض غلط فہمی تھی۔‘
اس کے بعد پورٹل میں جمع کی گئی شکایت کی کاپی شہری کی میز پر رکھ دی گئی۔ ’اس بات کو اب دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اب تک میرے افسران مجھے گھورتے ہیں اور باتیں سناتے ہیں۔ان میں سے ایک نے مجھے حال ہی میں کہا کہ 'دریا میں رہتے ہوئے مگرمچھ سے بیر اچھا نہیں ہوتا۔‘
شہری نے بتایا کہ اس محکمے میں اب بھی بد عنوانی ہو رہی ہے۔ ’لیکن میرے ساتھ ہونے والے واقعے کے بعد اب مجھ سے پراجیکٹ کی تفصیلات چھپائی جاتی ہیں جبکہ میرے اردگرد دیگر افراد ہیں جو شاید شکایت کرنا چاہتے ہوں مگر اب وہ بھی سہم گئے ہیں۔‘
ترجمان ماہ رُخ بیگ نے کہا کہ ’ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ پورٹل میں شکایت جمع ہونے کے بعد کسی کی بھی اس تک رسائی ہو سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایک آدھ معاملہ ایسا ہو سکتا ہے جہاں کسی کا درج کیا ہوا ای میل کسی تک پہنچ جائے ’لیکن شکایت کنندہ کا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر تفصیلات نہیں پہنچ سکتیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ ایسے شکایت کنندہ جنھیں شکایت لگانے کی وجہ سے ہراسانی کا سامنا ہے وہ نئی شکایت درج کروا سکتے ہیں جس کے بعد ایسے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
طلبا سب سے زیادہ متحرک
بی بی سی کو موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق سٹیزن پورٹل پر رجسٹر ہونے والے صارفین میں طلبا کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ’پروفیشل کے تحت رجسٹر شدہ صارفین‘ میں 982 ,129 طلبا ہیں۔





No comments:
Post a Comment